روس نے یوکرائن میں امریکہ کا ایف -16 جنگی جہاز مار گرایا
روس نے 12 جنوری 2026 کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی فضائیہ کا ایک امریکی ساختہ ایف-16 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ یہ خبر روسی فوج کے ایک کمانڈر نے دی، انہوں نے روسی ٹی وی پر انٹرویو میں بتایا کہ ان کے ایس-300 میزائل سسٹم نے طیارے پر دو میزائل داغے، پہلا میزائل طیارے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا، اور دوسرے میزائل نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
کمانڈر سیور نے کہا کہ یہ ان کی یونٹ کے لیے بہت اہم اور دلچسپ ہدف تھا۔ وہ مغربی ممالک کے دعووں کا مذاق اڑا رہے تھے کہ ایف-سولہ بہت مضبوط اور ناقابل شکست ہے۔ روسی میڈیا جیسے ٹاس، آر ٹی اور سپوتنک نے اس دعوے کو بہت نمایاں کیا اور اسے جنگ میں بڑی کامیابی قرار دیا۔ روسی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایف-سولہ یوکرین کو مغربی ممالک سے ملنے والے طیاروں میں سے ایک تھا، اور یہ چوتھا ایسا طیارہ ہے جو تباہ ہوا ہے۔یوکرین کی طرف سے اس دعوے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
یوکرین کی فوج اور حکام نے کہا کہ یہ خبر جھوٹی ہے اور روسی پروپیگنڈا کا حصہ ہے۔ یوکرین نے ماضی میں بھی ایسے روسی دعووں کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ایف-سولہ طیاروں کی آمد کے بعد کچھ طیارے مختلف وجوہات سے ضائع ہوئے ہیں، لیکن اس مخصوص واقعے کی کوئی تصدیق نہیں۔ایس-300 ایک پرانا لیکن طاقتور روسی میزائل سسٹم ہے جو سوویت دور کا ہے اور اب بھی استعمال ہوتا ہے۔ روسی کمانڈر نے بتایا کہ ان کی یونٹ نے اسے جدید بنایا ہے اور یہ ڈرونز، میزائلوں اور دیگر اہداف کو بھی مار گراتی ہے۔ ان کے مطابق ایف-سولہ کو مار گرانا ان کے لیے کوئی بڑی مشکل نہیں تھی۔
یہ دعویٰ روس اور یوکرین جنگ میں فضائی لڑائی کو مزید شدید کر سکتا ہے۔ یوکرین کو مغربی ممالک سے تقریباً 40 سے 50 ایف-سولہ طیارے مل چکے ہیں، اور یہ طیارے روسی حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ روسی فوج اکثر ایسی کامیابیوں کا دعویٰ کرتی ہے تاکہ اپنی طاقت دکھائے، جبکہ یوکرین ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔
