پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی واقعات کی ویڈیوز میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق کردی

 پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی واقعات کی ویڈیوز میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق کردی

https://stsurdupoint.blogspot.com/2026/01/pakistan-news-66.html


پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے ایک بہت اہم رپورٹ تیار کی ہے جس میں 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ واقعات اس وقت ہوئے جب سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور فسادات شروع ہو گئے تھے۔ خاص طور پر پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ اور توڑ پھوڑ کا کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ 



انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ ان ویڈیوز کی تصدیق کروائی جائے۔ اس لیے پشاور پولیس نے یہ ویڈیوز پنجاب کی فرانزک لیبارٹری کو بھیجیں۔رپورٹ کے مطابق لیبارٹری نے ایک یو ایس بی میں رکھی گئی 16 ویڈیوز کا بہت باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ اسے فریم بہ فریم دیکھا گیا۔ زیادہ تر ویڈیوز میں کوئی تبدیلی یا ایڈیٹنگ کے نشانات نہیں ملے۔ صرف چند ویڈیوز میں لوگو یا ٹیکسٹ شامل کرنے اور کلپس جوڑنے کے آثار پائے گئے۔ تجزیہ کرنے والوں نے ویڈیوز میں دکھائی دینے والے لوگوں کی تصاویر کو ان کی سوشل میڈیا پروفائلز سے ملایا اور تصدیق کی کہ یہ وہی لوگ ہیں۔اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ویڈیوز میں موجودگی ثابت ہو گئی ہے۔



 ان کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں نظر آنے والے شخص میں مکمل مماثلت پائی گئی۔ اسی طرح سابق صوبائی وزیر کامران بنگش، سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کی بھی ویڈیوز میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان سب کی پروفائل تصاویر ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد سے بالکل ملتی جلتی ہیں۔یہ رپورٹ 19 سے 23 دسمبر 2025 کے دوران تیار کی گئی اور آج 11 جنوری 2026 کو سامنے آئی۔ تجزیہ صرف ویڈیوز کے دیکھنے والے حصے تک محدود رکھا گیا تھا، یعنی آواز یا دیگر چیزوں کا جائزہ نہیں لیا گیا۔



یہ خبر پاکستان کی سیاست میں بہت بڑی ہے کیونکہ 9 مئی کے واقعات کو بہت سنگین سمجھا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات اور دیگر جگہوں پر حملے ہوئے تھے۔ حکومت انہیں "بلیک ڈے" کہتی ہے اور دہشت گردی کا مقدمہ چلا رہی ہے۔پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں اور حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز پرانی ہو سکتی ہیں یا انہیں غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک صحافی نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو مارچ 2023 کی ہے جو زمان پارک سے ہے اور 9 مئی کے واقعے سے براہ راست تعلق نہیں رکھتی۔ وہ کہتے ہیں کہ رپورٹ میں 9 مئی 2023 کا واضح ذکر نہیں ہے، اس لیے یہ صرف موجودگی کی تصدیق ہے، ملوث ہونے کی نہیں۔اب یہ کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ رپورٹ کی بنیاد پر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں اور قانونی کارروائی ممکن ہے۔ یہ بات پاکستان کی سیاسی صورتحال کو اور پیچیدہ بنا سکتی ہے کیونکہ سہیل آفریدی اب صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔ یہ معاملہ ابھی جاری ہے اور عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا ہو گا۔ یہ خبر ملک بھر میں بہت بحث کا باعث بنی ہے۔ کچھ لوگ اسے مضبوط ثبوت سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے سیاسی انتقام کہہ رہے ہیں۔


Previous Post Next Post

Contact Form